خبریںسیاست‏معاشرہTop

کابل، افغانستان اور اقوام متحدہ کے اداروں کے درمیان اعلی سطحی اجلاس

 

کابل(بی این اے) امارت اسلامیہ افغانستان اور اقوام متحدہ کے اداروں کے درمیان اعلی سطحی ہم آہنگی اجلاس کابل میں ہوا۔
اجلاس میں امارت اسلامیہ افغانستان کی مختلف وزارتوں اور اداروں کے وزراء ونمائندوں نے شرکت کی۔ جن میں وزارت خارجہ، وزارت تعمیرات وترقی دیہات، وزارت اقتصادیات، وزارت مالیات ، وزارت داخلہ، وزارت صحت عامہ، وزارت امور مہاجرین وآبادکاری، وزارت زراعت و لائیوسٹاک، وزارت پانی و توانائی، وزارت صنعت و تجارت، وزارت اطلاعات ثقافت، وزارت امورشہداء و معذورین، وزارت تعلیم ، کابل میونسپلٹی اور قومی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات ، ادارہ برائے نگرانی قدرت آفات کے اعلی حکام سمیت افغانستان اقوام متحدہ کی انسانی و ترقیاتی امدادی اداروں کے حکام کے علاوہ اقوام متحدہ کے اداروں (OCHA, WFP, UNDP, UNICEF, UN Habitat, FAO, UNHCR, UNESCO, ILO, UNFPA, WHO, UNODC) کے نمائندوں، بین الاقوامی تنظیموں (IRC, INTERSOS, NRC, ACBAR, DACAAR, ACF) اور نجی شعبے کے اعلی عہدیداروں نے شرکت کی۔
اجلاس میں مختلف شعبوں میں افغانستان کے عوام کی ضروریات ، امارت اسلامیہ کی ترجیحات، اقوام متحدہ کی جانب سے گزشتہ سال فراہم کی جانے والی امداد، آئندہ کے لائحہ عمل اور فریقین کے درمیان معاہدے اور ہم آہنگی کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے اجلاس کے شرکاء سے گفتگو میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ تمام تر توجہ ملک کی تعمیر نو اور ترقی پر مرکوز رکھی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی امداد سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ امداد افغانستان کے عوام کی ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ہو۔
اسی دوران اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی اور ترقی کے شعبے کی سربراہ اور یوناما کی نائب سربراہ اندریکا رتاوتی نے اجلاس میں کہا کہ اقوام متحدہ امداد کو انسانی ہمدردی سے ترقیاتی امداد میں تبدیل کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ان شعبوں کی طرف اشارہ بھی کیا جن پر اقوام متحدہ کی توجہ مرکوز ہے۔
اجلاس میں امارت اسلامیہ افغانستان اور اقوام متحدہ کے اداروں کے نمائندوں نے ترجیحات کے تبادلے اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے پر بھی بات کی۔
اجلاس کے اختتام پر قدرتی آفات خصوصاً ملک میں حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والے شہریوں کی ضروریات کو فوری طور پر پورا کرنے، تعاون اور ہم آہنگی کے موجودہ جذبے کو برقرار رکھنے اور بڑھانے اور انسانی امداد کو ترقیاتی امداد میں تبدیل کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ موضوعات پر تفصیلی بحث کے لیے تکنیکی طریقہ کار اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

Show More

Related Articles

Back to top button