خبریںسیاستTop

امارت اسلامیہ کا موقف قبول کرنے کی شرط پر دوحہ کے اگلے اجلاس میں شرکت کریں گے: مولوی عبدالکبیر

 

کابل ( بی این اے ) نائب وزیراعظم برائے سیاسی امور مولوی عبدالکبیر سے اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور روزمیری ڈی کارلو نے اپنے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کی افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ روزا اوتن بائیوا بھی موجود تھیں۔
اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے افغانستان میں ہونے والی پیش رفت اور کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں بہت سی مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔

ڈی کارلو نے عوام سے نائب وزیراعظم کی مسلسل ملاقاتوں پر خوشی کا اظہار کیا اور افغانوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی مدد اور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
اقوام متحدہ کی ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے نائب وزیراعظم کو دوحہ اجلاس کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور کہا کہ دوحہ اجلاس میں عالمی بینک سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں اور ممالک کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے۔
انہوں نے امارت اسلامیہ افغانستان کو بھی اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔
ڈی کارلو نے مزید کہا کہ دوحہ کا آئندہ اجلاس افغانستان اور دنیا کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے اور معمول پر لانے کا بہترین موقع ہے۔
دریں اثناء نائب وزیراعظم مولوی عبدالکبیر نے اقوام متحدہ کی جانب سے حالیہ سیلاب متاثرین کی امداد پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت حکومت میں 85,000 خواتین کام کر رہی ہیں۔ امارت اسلامیہ خواتین سمیت پیشہ ورانہ عملے کی خدمات حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوحہ میں ہونے والا پچھلا اجلاس منتظمین کی بعض کوتاہیوں کی وجہ سے مثبت نتائج نہ دے سکا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ اجلاس میں امارت اسلامیہ کا موقف قبول کیا جائے گا تاکہ وفد اس میں شرکت کر سکے۔
مولوی عبدالکبیر نے کہا کہ امارت اسلامیہ عالمی برادری کے ساتھ مسائل پیدا کرنا نہیں چاہتی بلکہ دنیا کے ساتھ تعامل چاہتی ہے۔
نائب وزیراعظم ایک بار پھر اس موقف کا اعادہ کیا کہ یوناما کی موجودگی میں افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ مقرر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

Show More

Related Articles

Back to top button