خبریںسیاستTop

افغانستان میں القاعدہ کا کوئی رکن نہیں ہے:مولوی ذبیح اللہ مجاہد

 

کابل (بی این اے) امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان مولوی ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کا کوئی رکن موجود نہیں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے حال ہی میں اپنی ایک رپورٹ میں الزام لگایا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے مراکز ہیں یا پھر کچھ گروپ افغانستان میں سرگرم ہیں۔
اس رپورٹ کے جواب میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ کے مراکز ہیں اور امارت اسلامیہ کے دور میں افغانستان میں بعض گروپ سرگرم ہیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان اس جھوٹے الزام کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے امارت اسلامیہ پرالزامات لگانے کا ایک منظم پروگرام شروع ہے جو مکمل پروپیگنڈا پر مشتمل ہے۔ جس میں اقوام متحدہ کے نام کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ بد قسمتی سے رکن ممالک بھی اس کی اجازت دے رہے ہیں جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی ساکھ متاثر ہورہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ سلامتی کونسل کے بعض رکن ممالک کو افغانستان میں شکست ہوئی جس کی وجہ سے وہ افغانستان کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اس نوعیت کی افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ لیکن جن ممالک کی افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں انھیں چاہیے کہ وہ اس نوع کے پروپیگنڈوں کی اجازت نہ دیں جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچے اور وہ چند ممالک کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو۔
انہوں نے کہا افغانستان میں القاعدہ سے متعلق کوئی گروہ نہیں ہے اور نہ ہی امارت اسلامیہ کسی کو اجازت دیتی ہے کہ وہ افغانستان کی سر زمین کسی کے خلاف استعمال کرے۔ بدقسمتی سے سلامتی کونسل کی رپورٹس کے ذرائع وہ لوگ ہیں جو 20 سال سے اپنے مفادات کے لیے جارح قوتوں کے ساتھ کھڑے تھے اور افغانستان کی آزادی اور سلامتی ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔
امید ہے سلامتی کونسل کی رپورٹس سیاسی و معاشی مفادات کی حریص قوتوں کے مفادات کے لیے استعمال نہیں ہوں گی جس کی وجہ سے افغانستان میں ان کی حیثیت سوالیہ نشان بن جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ گذشتہ بیس سال کی جنگ اور تباہی کی ایک بڑی وجہ اس نوع کے بے بنیاد معلومات پر مبنی فیصلے تھے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

واپس اوپر کے بٹن پر