خبریںسیاست‏معاشرہTop

افغانستان اور جاپان کے تعلقات ناکامورا جیسے نیک طبع اور انسانیت کا دردرکھنے والے لوگوں کی وجہ سے مثالی ہیں: سراج الدین حقانی

 

کابل(بی این اے) وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی اور وزارت کے اعلی احکام سے جاپان کی سسکاوا پیس فاؤنڈیشن کے وفد نے ملاقات کی۔
ملاقات میں مذکورہ وفد میں جاپان سوسکاوا پیس فاؤنڈیشن کے سربراہ اتسوشی سونامی تنظیم کے رکن اور افغانستان کے لیے یوناما کے سابق سربراہ تادامیچی یاماموتو اور اس فاؤنڈیشن کے دیگر اراکین شریک تھے۔
اتسوشی سونامی نے عالمی امن وامان سمیت مختلف شعبوں میں امارت اسلامیہ کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اقتصادی مسائل سمیت موجودہ بعض رکاوٹیں جلد دور ہو جائیں گی۔
اتسوشی سونامی کے مطابق افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت اور اداروں کے درمیان تعلقات کی طرح غیر سرکاری تنظیموں اور افراد کے درمیان مختلف ملاقاتوں کا انعقاد ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے مسائل مختلف طریقوں پر غور کر کے حل کیے جا سکتے ہیں، اس کے حل سے افغانستان اور دنیا کے درمیان موجود خلیج ختم ہو جائے گی۔
وفد نے یوناما کے ذریعے افغانوں کے لیے جاپان کی جانب سے مزید امداد دینے کی امید ظاہر کی۔
اسی دوران خلیفہ سراج الدین حقانی نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جاپان نے مشکل حالات میں افغانوں کی مدد کی ہے اور مزید کہا کہ ناکامورا جیسے نیک طبع اور انسانیت کا درد رکھنے والے لوگوں کے اقدامات سے دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
خلیفہ سراج الدین حقانی نے مزید کہا کہ سسکاوا اور اس جیسے اداروں کے ماہرین کی افغانستان آمد مثبت تھی اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ ادارے اچھے سیاسی فیصلے کرنے کے لیے ملکی صورتحال کی صحیح اور واضح تصویر دوسروں کے سامنے پیش کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکیوں کی طرف سے لگائی گئی پابندیاں انسانی ضروریات کے المیے کا باعث بنتی ہیں۔ تاہم افغانوں کی بنیادی انسانی ضروریات کا سیاسی مسائل سے الگ کر کے جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ طویل المدتی سیاسی مسائل کو بات چیت، افہام و تفہیم اور دوطرفہ تعلقات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

واپس اوپر کے بٹن پر